پتور،16/ اگست (ایس او نیوز) کبکا گرام پنچایت کی طرف سے پندرہ اگست کے دن جشن آزادی کی مناسبت سے سجائی گئی رتھ میں آر ایس ایس کے بانی ساورکر کی تصویر آویزاں کرنے پر جو تنازعہ پیدا ہوگیا تھا اس معاملے میں کل شام کو ہی پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا جن کی شناخت عزیز (43)، شامیر (40) اور عبدالرحمٰن (34) کے طور پر کی گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ سرکاری طور پر ہر گرام کو جشن آزادی کے سلسلے میں مختلف مناظر کی جھلکیوں کے ساتھ سجے سجائے رتھ نکالنے کی ہدایت دی گئی تھی ۔ اسی پس منظر میں شہر میں جلوس نکالنے کے لئے کبکا گرام پنچایت کی طرف سے ایک موٹر گاڑی کو سجایا گیا تھا جس میں آر ایس ایس کے بانی ونائیک دامودر ساورکر کی تصویر آویزاں کی گئی تھی ۔ جب پنچایت کے صدر اور پی ڈی او کی طرف سے اس گاڑی کو ہری جھنڈی دکھائی جارہی تھی تو مبینہ طور پر ایس ڈی آئی پی سے تعلق رکھنے والے مقامی نوجوانوں نے اعتراض جتایا اور احتجاج کرنے لگے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس گاڑی پر ٹیپو سلطان کی تصویر بھی آویزاں کی جائے ۔ اس بات پر جلوس کے منتظمین اور ایس ڈی پی آئی کارکنان کے درمیان زبانی جھڑپ شروع ہوگئی اور علاقہ میں ماحول کشیدہ ہوگیا ۔
جب جھگڑا بہت زیادہ بڑھنے لگا تو پولیس نے مداخلت کی اور ایس ڈی پی آئی کارکنان کو منتشر کردیا ۔ جب پتور ایم ایل اے سنجیوا مٹندور کو اس بات کی خبر ملی تو انہوں نے موقع پر پہنچ کر پولیس افسران کو ہدایت دی کی اس معاملہ میں ملوث ایس ڈی پی آئی کارکنان کو گرفتار کیا جائے ۔ انہوں نے کہا :" بہت دنوں سے کبکا میں فرقہ وارانہ طاقتیں سرگرم ہوگئی ہیں اور ان میں سے بہت ساروں کے تعلقات کیرالہ کی تنظیموں سے ہیں ۔ وہ لوگ سماجی ہم آہنگی میں خلل ڈالنے میں ملوث ہیں ۔ جشن آزادی سے متعلق گاڑی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا قابل مذمت ہے ۔ اس کے پیچھے کیرالہ کی کچھ تنظیموں کا ہاتھ صاف نظر آرہا ہے ۔ وزیر داخلہ کو اس معاملہ سے آگاہ کیا جائے گا ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجید گی سے لے ۔ اس کی تحقیقات این آئی اے کے حوالہ کی جانی چاہیے ۔ ہم کبکا کو ایک اور کشمیر بننے نہیں دیں گے ۔"
پنچایت ڈیولپمنٹ آفیسر آشا نے اس معاملہ کے بعد پولیس اسٹیشن میں جو شکایت درج کروائی ہے اس میں عزیز، نوشاد، شامیر، حارث، عدّو، توصیف، شفیع اور دیگر افراد پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے کووڈ گائڈ لائنس کی خلاف ورزی کی، جشن آزادی منانے سے روکا اور بھارت ماتا کی تصویر اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ۔ پولیس نے ان ملزمین پر آئی پی سی کے علاوہ وبائی امراض روک تھام قانون کی مختلف دفعات کے تحت کیس داخل کیا ہے ۔